15 جون 2009 - 19:30

فوجی مفاہمت نامے کے مطابق امریکہ یمنی افواج کو سیارچوں اور طیاروں کے ذریعے حاصل ہونے والی اطلاعات یمنی افواج کو فراہم کرنے سمیت یمنی افواج کو تربیتی سہولیات فراہم کرے گا۔

اہل البیت (ع) خبرایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن ـ صنعا فوجی تعاون کے معاہدے کے تحت امریکہ اس کے بعد حوثی تحریک کے مجاہدین کی سرکوبی کے لئے یمنی افواج کے حملوں میں مکمل تعاون فراہم کرے گا اور امریکی طیاری جاسوسی معلومات فراہم کرنے کے لئے یمن کی فضا میں بلا روک ٹوک پروازیں کرسکیں گے۔

رائٹرز کے مطابق اس وقت جبکہ یمنی فوج شمالی یمن میں اہل تشیع کی وسیع تحریک کے خلاف لڑ رہی ہے، یمنی ذرائع نے بتایا ہے کہ فوجی معاہدے پر صنعا میں دو روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد دستخط ہوئے ہیں۔

یمنی افواج کی سٹاف کمیٹی کے سربراہ «احمد علی الاشول»، نے کہا ہے کہ اس معاہدے پر پیر کے روز دستخط ہوئے ہیں۔

امریکی انتظامیہ کی طرف سے ابھی تک اس رپورٹ کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ 

قابل ذکر ہے کہ کچھ عرصہ قبل "تبدیلی" کا نعرہ لگا کر بش کی پالیسیوں پر عمل پیرا امریکی صدر "بارک اوباما" نے علی عبداللہ صالح کو خط لکھ کر "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کے حوالے سے امداد کا وعدہ دیا تھا۔

اوباما نے خط میں لکھا تھا کہ "یمن میں امن و امان ایک بنیادی مسئلہ ہے جو امریکہ میں امن کے لئے ناگزیر ہے اور القاعدہ سعودی عرب اور امریکہ کے لئے مشترکہ چیلنج ہے اور امریکہ آئی ایم ایف، عالمی بینک اور خلیج فارس تعاون کونسل کے تعاون سے یمن میں اصلاحات اور ترقی کے عمل کے سلسلے میں مدد فراہم کرے گا۔

انھوں نے اپنے خط میں البتہ یہ نہیں لکھا کہ شمالی یمن میں اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والے شیعہ باشندوں کا القاعدہ سے کیا تعلق ہوسکتا ہے جبکہ اس سے قبل شیعیان یمن کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں سعودی عرب نے کئی بار القاعدہ کے دہشت گرد بھی یمن کے شمالی علاقوں میں بھیج رکھے ہیں!

کچھ عرصہ قبل امریکہ، سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، عمان، عراق، مصر اور اردن کے وزرائے خارجہ نے اپنے مذاکرات کے اختتام پر مشترکہ بیان میں یمنی حکومت کی طرف سے حوثیوں کے خلاف کاروائیوں کی حمایت کی تھی۔

دریں اثناء اقوام متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی اور یمنی افواج کے حملوں کے بعد خواتین اور بچوں سمیت سینکڑوں شیعہ باشندے شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں جبکہ شمالی یمن سے ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد گھربار چھوڑ کر کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں انہیں اشیاء خورد و نوش اور پانی کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ اور بعض علاقوں میں لوگ اپنے گھروں میں قیدی بن کر رہ گئے ہیں اور اقوام متحدہ کے لئے ان لوگوں کو امدادرسانی ممکن نہیں ہے۔